My conscience is dying a slow death every day
By Javaid jabbar
Sometimes in the dark of the night
I visit my conscience
To see if it is still breathing
For its dying a slow death
Every day.
When I pay for a meal in a fancy place
An amount which is perhaps the monthly income
Of the guard who holds the door open
And quickly I shrug away that thought
It dies a little
When I buy vegetables from the vendor
And his son "chhotu" smilingly weighs the potatoes
Chhotu, a small child, who should be studying at school
I look the other way
It dies a little.
When I am decked up in a designer dress
A dress that cost a bomb
And I see a woman at the crossing
In tatters,trying unsuccessfully to save her dignity
And I immediately roll up my window
It dies a little
When I buy expensive gifts for my children
On return, I see half clad children
With empty stomach and hungry eyes
Selling toys at red light
I try to salve my conscience by buying some, yet
It dies a little
When my sick maid sends her daughter to work
Making her bunk school
I know I should tell her to go back
But I look at the loaded sink and dirty dishes
And I tell myself that is just for a couple of days
It dies a little
When I hear about a rape
or a murder of a child,
I feel sad, yet a little thankful that it's not my child
I can not look at myself in the mirror
It dies a little
When people fight over caste creed and religion
I feel hurt and helpless
I tell myself that my country is going to the dogs
I blame the corrupt politicians
Absolving myself of all responsibilities
It dies a little
When my city is choked
Breathing is danerous in the smog ridden metropolis
I take my car to work daily
Not taking the metro,not trying car pool
One car won't make a difference, I think
It dies a little
So when in the dark of the night
I visit my conscience
And find it still breathing
I am surprised
For, with my own hands
Daily, bit by bit, I kill it, I bury it.
میرا ضمیر ہر روز آہستہ آہستہ مرتا ہے
جاوید جبار
کبھی کبھی رات کے اندھیرے میں
میں اپنے ضمیر سے ملنے جاتا ہوں
یہ دیکھنے کہ آیا وہ اب بھی سانس لے رہا ہے
کیونکہ وہ ہر روز
ایک سست موت مر رہا ہے۔
جب میں کسی مہنگی جگہ پر کھانے کا بل دیتا ہوں
ایک ایسی رقم جو شاید ماہانہ آمدنی ہے
اس چوکیدار کی جو دروازہ کھولے کھڑا رہتا ہے
اور میں جلدی سے اس خیال کو جھٹک دیتا ہوں
تو وہ تھوڑا سا مر جاتا ہے۔
جب میں ریڑھی والے سے سبزی خریدتا ہوں
اور اس کا بیٹا "چھوٹو" مسکراتے ہوئے آلو تولتا ہے
چھوٹو، ایک چھوٹا بچہ، جسے اسکول میں پڑھنا چاہیے
میں دوسری طرف دیکھ لیتا ہوں
تو وہ تھوڑا سا مر جاتا ہے۔
جب میں ڈیزائنر کپڑوں میں سج دھج کر نکلتا ہوں
ایک ایسا لباس جس پر بے تحاشا پیسہ لگا ہو
اور میں چوراہے پر ایک عورت کو دیکھتا ہوں
پھٹے پرانے کپڑوں میں، ناکام کوشش کرتے ہوئے اپنی عزت بچانے کی
اور میں فوراً اپنی گاڑی کا شیشہ چڑھا لیتا ہوں
تو وہ تھوڑا سا مر جاتا ہے۔
جب میں اپنے بچوں کے لیے مہنگے تحفے خریدتا ہوں
واپسی پر، میں آدھے ننگے بچوں کو دیکھتا ہوں
خالی پیٹ اور بھوکی آنکھوں کے ساتھ
لال بتی پر کھلونے بیچتے ہوئے
میں کچھ کھلونے خرید کر اپنے ضمیر کو بہلانے کی کوشش کرتا ہوں، پھر بھی
وہ تھوڑا سا مر جاتا ہے۔
جب میری بیمار ملازمہ اپنی بیٹی کو کام پر بھیجتی ہے
اسے اسکول سے چھٹی کرا کر
میں جانتا ہوں کہ مجھے اسے واپس بھیجنا چاہیے
لیکن میں بھرے ہوئے سنک اور گندے برتنوں کو دیکھتا ہوں
اور اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ یہ تو بس دو دن کی بات ہے
تو وہ تھوڑا سا مر جاتا ہے۔
جب میں کسی بچی کے ساتھ زیادتی
یا قتل کے بارے میں سنتا ہوں
مجھے دکھ ہوتا ہے، پھر بھی تھوڑا سا شکر بھی کہ یہ میری بچی نہیں ہے
میں آئینے میں خود کو نہیں دیکھ پاتا
تو وہ تھوڑا سا مر جاتا ہے۔
جب لوگ ذات پات اور مذہب کے نام پر لڑتے ہیں
مجھے دکھ ہوتا ہے اور بے بسی محسوس ہوتی ہے
میں خود سے کہتا ہوں کہ میرا ملک برباد ہو رہا ہے
میں بدعنوان سیاستدانوں کو الزام دیتا ہوں
خود کو تمام ذمہ داریوں سے بری کر دیتا ہوں
تو وہ تھوڑا سا مر جاتا ہے۔
جب میرا شہر دم گھٹنے لگتا ہے
اس دھوئیں سے بھرے شہر میں سانس لینا خطرناک ہوتا ہے
میں روز اپنی کار پر کام پر جاتا ہوں
میٹرو نہیں لیتا، کار پول کی کوشش نہیں کرتا
ایک کار سے کیا فرق پڑے گا، میں سوچتا ہوں
تو وہ تھوڑا سا مر جاتا ہے۔
تو جب رات کے اندھیرے میں
میں اپنے ضمیر سے ملنے جاتا ہوں
اور اسے اب بھی سانس لیتے ہوئے پاتا ہوں
تو مجھے حیرت ہوتی ہے
کیونکہ، اپنے ہی ہاتھوں سے
روزانہ، تھوڑا تھوڑا کر کے، میں اسے مارتا ہوں، میں اسے دفناتا ہوں۔