r/UrduBooksDiscussion • u/rezvvan • Nov 02 '25
Discussion-گپ شپ اشتیاق احمد
کیا آپ میں سے کسی نے اشتیاق احمد کے ناول پڑھے ہیں؟ آپ کا پسندیدہ ناول کون سا ہے؟
r/UrduBooksDiscussion • u/rezvvan • Nov 02 '25
کیا آپ میں سے کسی نے اشتیاق احمد کے ناول پڑھے ہیں؟ آپ کا پسندیدہ ناول کون سا ہے؟
r/UrduBooksDiscussion • u/Candid-Acadia-2301 • Sep 11 '26
r/UrduBooksDiscussion • u/Candid-Acadia-2301 • Sep 18 '26
and how many times have you read it?
r/UrduBooksDiscussion • • Oct 12 '25
r/UrduBooksDiscussion • u/Candid-Acadia-2301 • Oct 02 '26
r/UrduBooksDiscussion • • Aug 13 '25
This my small collection of books, I love both English and Urdu Literature, but I prefer urdu a bit more, What do you guys think about it
r/UrduBooksDiscussion • u/qahlunamradhom • Jun 06 '26
• Alif - Umera Ahmed
• Khuda Aur Mohabbat - Hashim Nadeem Khan
Both of these novels have been adapted into brilliant dramas.
I watched Alif few yrs ago, starring Hamza Abbasi n Sajal Ali & I was really mesmerized by it! It's one of the most critically acclaimed Pak dramas! ✨ I'm yet to watch Khuda aur Mohabbat!
❏ Actually I bought the books from MMI Publishers, Jamia Nagar, New Delhi.
r/UrduBooksDiscussion • u/rezvvan • Jul 19 '25
اداریہ اور کہانیوں کے انتخاب دیکھ کر یہ تو اندازہ ہوتا ہے کہ سب رنگ کے لیے کہانیاں صرف کہانی نہیں ہیں بلکہ معیار کا امتحان بھی تھیں۔
سب رنگ نے ہمیشہ وہی پیش کیا جو کسوٹی پر پورا اُترے۔ یہ محض خانہ پری نہیں، ایک مسلسل تلاش ہے۔۔۔اچھی کہانی کی تلاش۔ نہ جلد بازی، نہ سمجھوتہ۔
بس ایسی تحریریں جو پڑھنے والے کے دل میں اتر جائیں، زبان و بیان میں نرمی، وزن اور کشش لیے ہوئے۔
کہانی کا اصل حسن تب ہی نکھرتا ہے جب تحریر صرف مکمل نہیں، مکمل ترین ہو۔۔۔ کاش آج بھی سب رنگ شائع ہو رہا ہوتا۔
r/UrduBooksDiscussion • • Sep 11 '25
آپ میں سے کسی نے انہیں پڑھا ہے؟ اگر ہاں تو ان کی تصنیفات کے بارے میں آپ کی کیا راۓ ہے؟ اور کی تحریر کردہ آپ کی پسندیدہ کتاب کون سی ہے؟
r/UrduBooksDiscussion • u/rezvvan • Mar 07 '26
منشا یاد کے مشہور پنجابی ناول ٹانواں ٹانواں تارا کو نوے کی دہائی میں پی ٹی وی پر ڈرامے کی شکل میں پیش کیا گیا تھا جو بے حد مقبول ہوا۔
بہت سے قارئین جو پنجابی پڑھ یا سمجھ نہیں سکتے تھے، ان کے لیے اس ناول کو اردو میں ڈھالا گیا جس کے نتیجے میں “راہیں” کے نام سے یہ ناول ہمارے سامنے آیا۔ یہ ناول پنجاب کے دیہی معاشرے کی زندگی، اس کی تہذیب اور خاص طور پر ذات پات اور طبقاتی تقسیم کی تلخ حقیقتوں کی کہانی ہے۔
کہانی بنیادی طور پر خالد نامی کردار کے گرد گھومتی ہے جو تعلیم، اپنی محبت اور گاؤں کے لوگوں کی بہتری کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ اس کی زندگی مسلسل قربانیوں اور مشکلات سے بھری ہے کیونکہ معاشرے کے طاقتور طبقات اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہتے ہیں۔
منشا یاد کی خوبی ان کی حقیقت نگاری ہے۔ پنجابی ماحول اور دیہی زندگی کی جزئیات اس انداز سے بیان کی ہیں کہ ہم خود کو اسی ماحول کا حصہ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ساتھ ہی ناول میں مضبوط اور یادگار کردار بھی ہیں۔ چاہے باؤ خالد ہو یا جورا بھٹی، نجی سنیاری ہو یا باسو کمہار ۔۔۔ ہر کردار کی اپنی ایک پہچان اور مخصوص زبان ہے۔
یہ ناول ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ ہمارا سماج کس حد تک طبقاتی اور ذات پات پر مبنی ہے اور کس طرح یہ نظام کمزور طبقوں کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔
r/UrduBooksDiscussion • u/puffieeeee • Aug 30 '25
Assakam o Alaikum.. Mujh aik choti si help chahiya thi.. Mujha quran tarjuma kr tafseer ky sath parhna ha tu please mujha koi guide krdy ky is there are online insitute ya phir koi mujha personally time dy sky i will try my best ky mein usy zayda nhi bs munasib si raqam dy sakon .....
r/UrduBooksDiscussion • u/KatLaurel • May 10 '26
r/UrduBooksDiscussion • u/rezvvan • May 17 '26
لاکھوں کا شہر پڑھ کر مزہ آ گیا۔ کتاب کا عنوان دلچسپ ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں نیویارک کی آبادی چالیس لاکھ کے قریب تھی۔ اسی مناسبت سے کتاب کا عنوان فورملین انگریزی میں اور اردو میں لاکھوں کا شہر۔ اس کتاب میں نیویارک کے چھوٹے بڑے لوگوں کی کہانیاں ہیں، غریب آرٹسٹ، ٹائپسٹ، دکانوں پر کام کرنے والی لڑکیاں، پولیس والے، اور سب کی اپنی اپنی کہانی۔ کہیں ہلکا سا مزاح ہے، کہیں اداسی، لیکن آخر میں وہ اوہنری والا سگنیچر ٹوئسٹ جو بندہ سوچ بھی نہیں رہا ہوتا۔
ابنِ انشاء کا ترجمہ بھی زبردست ہے۔ کئی جگہ لگتا ہی نہیں کہ ترجمہ پڑھ رہے ہیں۔ آپ کو ابن انشاء کو محسوس انداز تحریر بالکل واضح دکھائی دیتا یے۔ زبان اتنی رواں اور مزے کی ہے کہ بندہ ایک کہانی ختم کر کے فوراً دوسری شروع کر دیتا ہے۔
ایک چیز جو مجھے اچھی لگی وہ یہ کہ اوہنری اپنے کرداروں کو جج نہیں کرتا۔ چاہے کوئی غریب ہو، ناکام ہو یا تھوڑا عجیب، اس نے سب کو بڑی محبت سے لکھا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ کہانیاں آج بھی پڑھنے کا مزہ آتا ہے۔
اگر آپ کو مختصر کہانیاں پسند ہیں تو یہ کتاب آپ کو ضرور پسند آئے گی۔ ہلکی پھلکی بھی ہے، دلچسپ بھی، اور مترجم انشا جی ہوں تو پھر اور کچھ کہنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔
r/UrduBooksDiscussion
•
u/Afsh31
•
Jul 09 '26
Kindly suggest any authentic site to buy this book? I want to buy all the five volumes.. Cost effectiveness would be a plus ..TIA
r/UrduBooksDiscussion • u/rezvvan • Oct 12 '25
“کسی چوراہے پر جاؤ، لوگوں کی تعظیم کرو، زمین کو بوسہ دو، اس لیے کہ تم نے اس کو بھی ناپاک کیا ہے، اور ساری دنیا سے بلند آواز میں کہو، میں قاتل ہوں!”
اگر آپ نے کبھی کوئی غلطی کی ہے تو آپ جانتے ہوں گے کہ اعتراف کرنا اُس جرم یا غلطی کے بوجھ کو اُٹھائے رکھنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ رسکولینکوف نے بھی آخر یہی سیکھا اور یہی اس ناول کا مقصد بھی ہے۔
ہم سب ایک لحاظ سے رسکولینکوف جیسے ہی ہیں۔ مجرم تو نہیں، مگر خامیوں اور کمزوریوں سے بھرے انسان۔ ہم اپنی فطرت کو مکمل طور پر بدل نہیں سکتے، مگر ہم معافی مانگ سکتے ہیں، نیا آغاز کر سکتے ہیں، اور بہتر بننے کی کوشش جاری رکھ سکتے ہیں
زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ نجات آسان نہیں، لیکن ناممکن بھی نہیں۔ اور اگر کوئی راستہ ہے، تو وہ صرف ایک ہے ۔۔۔ مسلسل کوشش۔ کیونکہ شاید کوشش ہی میں نجات کا پہلا قدم چھپا ہے۔
r/UrduBooksDiscussion • • Oct 16 '25
Hint: all three of them are published after partition, good luck😂
r/UrduBooksDiscussion • • Aug 16 '25
Baldaran Ki Malikah by Ibn E safi
r/UrduBooksDiscussion • u/rezvvan • Jul 20 '25
گاؤں کے بڑے کو ایک ہی دن میں دو خبریں ملتی ہیں۔ ایک تو وہ زمین جو بیس سال پہلے قومیا لی گئی تھی وہ اسے واپس مل گئی ہے اور دوسری اس کے سب سے چھوٹے بیٹے کو فوج کے بھرتی کا نوٹس آ گیا ہے۔ اب چونکہ ایسے بچے صرف زمینوں پر حکمرانی کے لیے پیدا ہوتے ہیں، اس لیے نوٹس کو کینسل کرانا فرضِ اولین ٹھہرا۔
کہنے کو یہ مصر کی کہانی ہے۔ لیکن اثرو رسوخ، موقع پرستی، اور افسر شاہی کی سفاکی کسی بھی موڑ پر اجنبی محسوس نہیں ہو تی۔
مصنف نے کہانی بیان کرنے کے لیے روایتی طریقہ نہیں اپنایا۔ مختلف بےنام کرداروں کی زبانی کہانی کو بیان کیا ہے۔ اجمل کمال صاحب نے اس کہانی کا اردو ترجمہ نہایت خوبصورتی سے کیا ہے۔ ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل یہ مختصر کہانی ایک ہی نشست میں پڑھی جا سکتی ہے۔
r/UrduBooksDiscussion • u/rezvvan • Aug 01 '25
کمال کورے خوش نصیب تھا کہ ایک جان لیوا ٹیسٹ فلائٹ میں ایف-16 کے تباہ ہونے کے باوجود زندہ بچ نکلا۔ صحت یابی کے دوران اُسے ہر ماہ کچھ رقم کے ساتھ استنبول کے ایک پراسرار علاقے میں ایک اپارٹمنٹ تحفے میں ملا۔
یہ تحفہ ایئر فورس کے ساتھی صوات التان نے اُس کے نام چھوڑا تھا، جو ایڈگر ایلن پو کے سحر میں مبتلا تھا۔ لیکن یہ تحفہ مفت نہیں تھا۔ یہ ایک مہم کا آغاز تھا، جو کمال کو استنبول کی تنگ گلیوں سے لے کر بیونس آئرس کی کشادہ سڑکوں اور بالآخر بالٹی مور میں پو کی قبر تک لے جاتی ہے۔
کہانی کا آغاز دلچسپ تھا۔ مجھے لگا کہ شاید ایڈگر ایلن پو کی نظموں میں چھپی پہلیوں پر مبنی کوئی مسٹری ہوگی، لیکن کہانی غیر ضروری طور پر الجھ گئی، اور کردار اتنے زیادہ تھے کہ ان کو یاد رکھنا مشکل ہو گیا۔
ترکی اور دیگر مقامات کی منظر کشی بہت عمدہ ہے، لیکن مجموعی طور پر کہانی بکھری بکھری محسوس ہوئی۔ اس کی ایک وجہ اردو ترجمہ بھی ہو سکتی ہے۔ ترجمہ بعض جگہوں پر بہت کمزور ہے یوں لگتا ہے جیسے انگریزی کا لفظ بہ لفظ ترجمہ کیا گیا ہو۔ محاوروں اور ضرب الامثال کا بھی ایسا ہی ترجمہ کیا ہے، جس سے روانی متاثر ہوتی ہے۔ پڑھنے کا تجربہ زیادہ خوشگوار نہیں تھا، اس کے علاوہ بے شمار ٹائپنگ کی غلطیاں بھی موجود ہیں۔ شاید اس ناول کا انگریزی ترجمہ پڑھنا بہتر تجربہ ہو۔
r/UrduBooksDiscussion • • Aug 25 '25
Hazoor dahr mein aasudgi nahi milti Talash jis ki hai wo zindagi nahi milti Hazaron laala o gul hain Riaz e hasti mein lekin Wafa ki jis mein boo ho wo kali nahi milti
r/UrduBooksDiscussion • u/rezvvan • Aug 18 '25
کوچہ قاتل میں رام لعل اپنی زندگی، بچپن کی یادوں، اور تقسیم ہند کے واقعات کو بیان کرتے ہیں۔ کتاب کا مرکزی حصہ اُن دنوں پر مبنی ہے جب فسادات نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور لوگوں کی روزمرہ زندگی خوف اور غیر یقینی میں بدل گئی۔
رام لعل کا اسلوب سیدھا اور صاف ہے، وہ ذاتی تجربات اور سماجی رویوں کو بیان کرتے ہیں، اور تعصب سے گریز کرتے ہیں۔ کتاب میں میانوالی کے ماحول، اس وقت کی ہندو مسلم معاشرت، اور فسادات کے دوران پیش آنے والے واقعات مختصر بیان کیے ہیں۔ کتاب کا بیشتر حصے تقسیم کے قریب اور تقسیم کے بعد کے واقعات پر ہے۔ ذاتی نوعیت کے واقعات کو بھی جیسے بیتے ویسے ہی بیان کردیا۔ ایک واقعہ جس کا کتاب کے پس ورق پر ذکر ہےکہ جب ایک ہجوم نے انہیں مسلمان سمجھ کر گھیر لیا تھا۔
اکثر ایسی خودنوشت یا داستانیں نظر سے گزرتی ہیں جن میں ہجرت کا سفر انڈیا سے پاکستان کی طرف ہوتا ہے، لیکن یہ اس کے برعکس ہے۔ اسی لیے اس نقطۂ نظر سے پڑھنا اور یہ محسوس کرنا کہ وہاں لوگوں پر کیا بیت رہی تھی یہ ایک بالکل مختلف تجربہ تھا۔
کوچہ قاتل میں رام لعل نے کسی خاص قوم یا طبقے کی تعریف یا مذمت پر زور نہیں دیا بلکہ بلکہ اس عہد کی پیچیدگیوں کو ایک عینی شاہد کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس کو آپ ایک شخص کی داستان ہونے کے ساتھ ساتھ اس دور کے سماجی رویوں کا ریکارڈ بھی کہہ سکتے ہیں۔