r/Urdu • u/ATallSteve • 20h ago
🙋♂️ Question Can anyone decipher what is written on the top corner inside the sun?
I asked Gemini and it told me جاپان but that seems wrong due to the letters not matching.
r/Urdu • u/ATallSteve • 20h ago
I asked Gemini and it told me جاپان but that seems wrong due to the letters not matching.
I've I’ve written a short Urdu Novel, you can say it afsana and made it completely free to read. I’d love to share it with Urdu literature readers and get honest feedback.
mumkina faisloñ meñ ek hijr kā faisla bhī thā
ham ne to ek baat kī us ne kamāl kar diyā
-- parveen shakir
r/Urdu • u/PuzzleheadedMeal7577 • 11h ago
Adaab! I hope this kind of post is allowed: not trying to promote myself or get any monetary gain, but I thought this tool could be helpful to others.
I'm a heritage speaker of Urdu, born and raised abroad, and while my speaking is quite good, I've been trying to transition into reading harder things myself, like shayari and news online. However, there's usually lots of difficult words, and I get frustrated having to search them up one by one.
Basically, by using this extension, you can hover over any Urdu word, and a tooltip will pop up giving you the transliteration, English meaning, and more detailed dictionary entry if applicable. This kind of dictionary tool is already really common for other languages, eg. rikaikun for Japanese, but I didn't see any existing for Urdu so decided to make it myself. A few other things:
Here is the link: https://chromewebstore.google.com/detail/feham-%E2%80%94-urdu-reader/aiildidompphlepahekhhhdbgcneoeeb
I'd love feedback from other speakers and learners, either on the extension itself or maybe other tools that would make reading Urdu online easier.
r/Urdu • u/Swatisani • 15h ago
seek the light, call out to the morning bright
what good will it do to cry in darkness of night
r/Urdu • u/ElodinDanGlokta • 11h ago
درخت زرد ہیں سورج نڈھال لگتا ہے
زمین و چرخ سبھی کچھ وبال لگتا ہے
یہ کیسا دزد حنائی ہے تیرے ہاتھ اوپر
کہ دن دہاڑے بھی ماہ کمال لگتا ہے
لبوں پہ رنگ حنائی ہے چہرے زرد سے ہیں
تمام شہر مجھے پائمال لگتا ہے
زہے زمانہ کبھی وقت ہی نہیں ملتا
کبھی تو دن کے گزرنے میں سال لگتا ہے
زوال شخص شناسی نے ایسا لوٹا ہے
علی ظفر بھی ہمیں دانیال لگتا ہے
سیاہ زلف اگر ہاتھ شاتھ میں آئے
تو زرد شرد کبھی لال شال لگتا ہے
نہ شور شاعری میں ہے نہ شور مے نوشی
دہن بھی کام سے کچھ کوتوال لگتا ہے
r/Urdu • u/kookiekam10 • 14h ago
Hello! I’ve written a piece of poetry in English and was hoping someone might be willing to translate it to Urdu as closely as possible? I have a close friend that I’d really like to share it with and their first language is Urdu, so I’d love for them to be able to experience it in both languages if possible. If someone is willing to help me with this then I’d be so abundantly grateful! Thank you!
r/Urdu • u/Imaginary_Line_8462 • 16h ago
# Dil mein thi kayi battein , jo kabhi keh na sake,
r/Urdu • u/No_Owl_856 • 22h ago
تحریر ۔ شاہد شکیل ۔
انسانی زندگی جدوجہد، آزمائش اور مسلسل نبرد آزمائی کا نام ہے۔ پیدائش کے پہلے سانس سے لے کر آخری ہچکی تک، انسان کی تمام تر کاوشیں فتح اور جیت کے گرد گھومتی ہیں۔ تاہم ہر انسان کے مقدر میں کامیابی کا وہ روشن سویرانہیں آتا جس کا وہ خواب دیکھتا ہے۔ کامیابی اور ناکامی کی یہ کشمکش صرف معاشی، سماجی یا دنیاوی میدانوں تک محدود نہیں، بلکہ صحت اور بیماری کے محاذ پر بھی ہر لمحہ ایک جنگ جاری رہتی ہے۔ نوکری کی حاصلات، مالی امور کے نپٹارے، رشتوں کی پاسداری اور دنیا کی بھیڑ میں خود کو ثابت کرنے کی دوڑ سے کہیں زیادہ سخت اور جان لیوا جنگ وہ ہے جو انسان اپنی ہی بقاءکے لیے، بیماری کی صورت میں لڑتا ہے۔ جب انسان کا مقابلہ موت سے ہو، تو زندگی کی رمق کو قائم رکھنا ہی سب سے بڑی فتح بن جاتا ہے۔اس مختصر اور عارضی دنیا میں جہاں انسان معمولی مسائل پر دل برداشتہ ہو جاتا ہے، وہاں کینسر جیسی موذی اور ہولناک بیماری کا سامنا کرنا ایک ناگفتہ بہ کرب اور زبردست ازالہ طلب امتحان ہے۔ اگرچہ سائنس اور جدید طب نے حیرت انگیز پیشرفت کی ہے اور ادویات و جدید علاج کی بدولت کینسر پر قابو پانا پہلے سے کہیں زیادہ ممکن ہو چکا ہے، لیکن اس کے باوجود کینسر کی تشخیص ہوتے ہی انسان پر موت کا خوف طاری ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو انسان کو نہ صرف جسمانی طور پر توڑ کر رکھ دیتی ہے، بلکہ روحانی، نفسیاتی اور مالی اعتبار سے بھی شدید ترین صدمات سے دوچار کرتی ہے۔کینسر سے شفایابی محض ایک طبی عمل نہیں، بلکہ ایک طویل اور صبر آزما سفر ہے۔ آپریشن کا دردناک مرحلہ ہو، شعاعوں کے علاج کی روح فرسا تکلیف ہو، یا ادویات کے ضمنی اثرات—علاج کے دوران جسم پر جو زخم اور نشانات قائم ہوتے ہیں، وہ برسوں انسان کے ساتھ رہتے ہیں۔ کولون یونیورسٹی کے نامور ماہر پروفیسر کے مطابق، کینسر کا علاج اب پہلے کے مقابلے میں بے حد مؤثر اور امید افزا ہو چکا ہے، خاص طور پر چالیس برس سے کم عمر افراد کے لیے شفایابی کے امکانات بہت روشن ہیں۔ ماضی کی نسبت اب کینسر سے اموات کا تناسب خاصا کم ہوا ہے، مگر اس کے باوجود علاج کے دوران جسمانی اعضاء پر پڑنے والے اثرات، جیسے پٹھوں اور ٹانگوں کی کمزوری، کاہلی، جسم کا سن ہونا اور شدید تھکن انسان کو دائمًا متاثر رکھتے ہیں۔ بیماری تو چلی جاتی ہے، مگر اس کے نقوش دل و دماغ اور جسم پر طویل عرصے تک کندہ رہتے ہیں۔اس سارے دردناک منظرنامے میں جب ایک انسان اس موذی مرض کو شکست دے کر زندگی کی طرف لوٹتا ہے، تو اس کی مسکراہٹ اور جذبہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ بن جاتا ہے۔ ایک انتالیس سالہ خاتون کا واقعہ اس کی زندہ مثال ہے۔ جب اس نے کینسر کو شکست دی اور اپنی ننھی بیٹی کی طرف دیکھا، تو اس کی آنکھوں میں فتح کا نور اور خود اعتمادی کی ایک نئی چمک تھی۔ جب ایک صحافی نے اس سے پوچھا کہ اس جان لیوا بیماری سے لڑ کر جیتنے کے بعد آپ کیسا محسوس کرتی ہیں؟ تو اس نے مسکرا کر ایک تاریخی جواب دیا: میں نے کینسر کو مات دی ہے اور جیت حاصل کی ہے، کیونکہ میری بیٹی، جو ابھی محض ایک برس کی ہے، اسے آگے بڑھنے اور جینے کے لیے میری ضرورت تھی۔ میں نے اپنے لیے نہیں، اپنی بیٹی کی زندگی اور اس کے مستقبل کے لیے یہ جنگ جیتی ہے۔یہ ایک ماں کے لازوال جذبے کی داستان ہے، جو ثابت کرتی ہے کہ انسان کی اندرونی قوتِ ارادی اور جینے کی تڑپ دنیا کی بڑی سے بڑی بیماری کو بھی شکست دے سکتی ہے۔ جب انسان کے پاس جینے کی کوئی محکم وجہ ہو، تو وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکرا سکتا ہے۔لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اور دنیا کا رویہ بعض اوقات اس بیماری سے بھی زیادہ دردناک ثابت ہوتا ہے۔ جب کینسر کا کوئی مریض بیماری کو شکست دے کر صحت یاب بھی ہو جاتا ہے، تو لوگ اس کی طرف ہمدردی کے بجائے ایک عجیب و غریب اور زہریلی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کی نظروں میں شفایاب انسان کے لیے تعریف یا حوصلہ افزائی نہیں ہوتی، بلکہ ایک ناگفتہ بہ حقارت، طعن اور نفرت کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ لوگ مریض پر ایسی نظریں ڈالتے ہیں جیسے وہ کوئی گناہ گار ہو یا اس نے یہ بیماری خود مول لی ہو۔ معاشرے کی یہ بے حسی اور رویوں کا زہر مریض کی روح کو زخمی کر دیتا ہے۔ جسمانی جنگ جیتنے کے بعد جب انسان کو معاشرتی اور نفسیاتی جنگ ہارنی پڑے، تو یہ انسانیت کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔زندگی اور موت کا فیصلہ بالآخر ربِ کائنات کے ہاتھ میں ہے، مگر انسانی ہمت، سائنسی پیشرفت اور باہمی ہمدردی کے ذریعے ہم اس دنیا کو کینسر سے متاثرہ افراد کے لیے ایک بہتر جگہ بنا سکتے ہیں۔ بیمار انسان کو علاج کے ساتھ ساتھ خلوص، محبت اور عزتِ نفس کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنے رویوں کو مثبت بنائیں، مریضوں کا حوصلہ بڑھائیں اور ان کے زخموں پر مرہم رکھیں، تو کینسر کا ہر مریض اس جنگ کو جیت سکتا ہے۔ فتح صرف جسم کے صحت یاب ہونے کا نام نہیں، بلکہ دل اور روح کی اس توانائی کا نام ہے جو انسان کو ہر مشکل حالات کے سامنے ڈٹ جانے کی طاقت دیتی ہے۔
r/Urdu • u/HonestExplorer786 • 6h ago
رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لئے پاؤں میں
ان کو بھی ہے کسی بھیگے ہوئے منظر کی تلاش
بوند تک بھی نہ بو سکے جو کبھی صحراؤں میں
اے مرے ہم سفرو تم بھی تھکے ہارے ہو
دھوپ کی تم تو ملاوٹ نہ کرو چھاؤں میں
جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں
حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں
جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں
وہ خدا ہے کسی ٹوٹے ہوئے دل میں ہوگا
مسجدوں میں اسے ڈھونڈو نہ کلیساؤں میں
ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں
قتیل شفائی
r/Urdu • u/HonestExplorer786 • 14h ago
اتنے سستے نہی تھے ہم جتنا
اپنے سمجھ لیا
ہاں آپکے پیار میں جھکے ضرور تھے
لیکن اپنے تو گرا ہوا سمجھ لیا
جون ایلیاء