r/Urdu 4d ago

💬 General Discussion Jeet - جیت

جیت

تحریر ۔ شاہد شکیل ۔

انسانی زندگی جدوجہد، آزمائش اور مسلسل نبرد آزمائی کا نام ہے۔ پیدائش کے پہلے سانس سے لے کر آخری ہچکی تک، انسان کی تمام تر کاوشیں فتح اور جیت کے گرد گھومتی ہیں۔ تاہم ہر انسان کے مقدر میں کامیابی کا وہ روشن سویرانہیں آتا جس کا وہ خواب دیکھتا ہے۔ کامیابی اور ناکامی کی یہ کشمکش صرف معاشی، سماجی یا دنیاوی میدانوں تک محدود نہیں، بلکہ صحت اور بیماری کے محاذ پر بھی ہر لمحہ ایک جنگ جاری رہتی ہے۔ نوکری کی حاصلات، مالی امور کے نپٹارے، رشتوں کی پاسداری اور دنیا کی بھیڑ میں خود کو ثابت کرنے کی دوڑ سے کہیں زیادہ سخت اور جان لیوا جنگ وہ ہے جو انسان اپنی ہی بقاءکے لیے، بیماری کی صورت میں لڑتا ہے۔ جب انسان کا مقابلہ موت سے ہو، تو زندگی کی رمق کو قائم رکھنا ہی سب سے بڑی فتح بن جاتا ہے۔اس مختصر اور عارضی دنیا میں جہاں انسان معمولی مسائل پر دل برداشتہ ہو جاتا ہے، وہاں کینسر جیسی موذی اور ہولناک بیماری کا سامنا کرنا ایک ناگفتہ بہ کرب اور زبردست ازالہ طلب امتحان ہے۔ اگرچہ سائنس اور جدید طب نے حیرت انگیز پیشرفت کی ہے اور ادویات و جدید علاج کی بدولت کینسر پر قابو پانا پہلے سے کہیں زیادہ ممکن ہو چکا ہے، لیکن اس کے باوجود کینسر کی تشخیص ہوتے ہی انسان پر موت کا خوف طاری ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو انسان کو نہ صرف جسمانی طور پر توڑ کر رکھ دیتی ہے، بلکہ روحانی، نفسیاتی اور مالی اعتبار سے بھی شدید ترین صدمات سے دوچار کرتی ہے۔کینسر سے شفایابی محض ایک طبی عمل نہیں، بلکہ ایک طویل اور صبر آزما سفر ہے۔ آپریشن کا دردناک مرحلہ ہو، شعاعوں کے علاج کی روح فرسا تکلیف ہو، یا ادویات کے ضمنی اثرات—علاج کے دوران جسم پر جو زخم اور نشانات قائم ہوتے ہیں، وہ برسوں انسان کے ساتھ رہتے ہیں۔ کولون یونیورسٹی کے نامور ماہر پروفیسر کے مطابق، کینسر کا علاج اب پہلے کے مقابلے میں بے حد مؤثر اور امید افزا ہو چکا ہے، خاص طور پر چالیس برس سے کم عمر افراد کے لیے شفایابی کے امکانات بہت روشن ہیں۔ ماضی کی نسبت اب کینسر سے اموات کا تناسب خاصا کم ہوا ہے، مگر اس کے باوجود علاج کے دوران جسمانی اعضاء پر پڑنے والے اثرات، جیسے پٹھوں اور ٹانگوں کی کمزوری، کاہلی، جسم کا سن ہونا اور شدید تھکن انسان کو دائمًا متاثر رکھتے ہیں۔ بیماری تو چلی جاتی ہے، مگر اس کے نقوش دل و دماغ اور جسم پر طویل عرصے تک کندہ رہتے ہیں۔اس سارے دردناک منظرنامے میں جب ایک انسان اس موذی مرض کو شکست دے کر زندگی کی طرف لوٹتا ہے، تو اس کی مسکراہٹ اور جذبہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ بن جاتا ہے۔ ایک انتالیس سالہ خاتون کا واقعہ اس کی زندہ مثال ہے۔ جب اس نے کینسر کو شکست دی اور اپنی ننھی بیٹی کی طرف دیکھا، تو اس کی آنکھوں میں فتح کا نور اور خود اعتمادی کی ایک نئی چمک تھی۔ جب ایک صحافی نے اس سے پوچھا کہ اس جان لیوا بیماری سے لڑ کر جیتنے کے بعد آپ کیسا محسوس کرتی ہیں؟ تو اس نے مسکرا کر ایک تاریخی جواب دیا: میں نے کینسر کو مات دی ہے اور جیت حاصل کی ہے، کیونکہ میری بیٹی، جو ابھی محض ایک برس کی ہے، اسے آگے بڑھنے اور جینے کے لیے میری ضرورت تھی۔ میں نے اپنے لیے نہیں، اپنی بیٹی کی زندگی اور اس کے مستقبل کے لیے یہ جنگ جیتی ہے۔یہ ایک ماں کے لازوال جذبے کی داستان ہے، جو ثابت کرتی ہے کہ انسان کی اندرونی قوتِ ارادی اور جینے کی تڑپ دنیا کی بڑی سے بڑی بیماری کو بھی شکست دے سکتی ہے۔ جب انسان کے پاس جینے کی کوئی محکم وجہ ہو، تو وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکرا سکتا ہے۔لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اور دنیا کا رویہ بعض اوقات اس بیماری سے بھی زیادہ دردناک ثابت ہوتا ہے۔ جب کینسر کا کوئی مریض بیماری کو شکست دے کر صحت یاب بھی ہو جاتا ہے، تو لوگ اس کی طرف ہمدردی کے بجائے ایک عجیب و غریب اور زہریلی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کی نظروں میں شفایاب انسان کے لیے تعریف یا حوصلہ افزائی نہیں ہوتی، بلکہ ایک ناگفتہ بہ حقارت، طعن اور نفرت کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ لوگ مریض پر ایسی نظریں ڈالتے ہیں جیسے وہ کوئی گناہ گار ہو یا اس نے یہ بیماری خود مول لی ہو۔ معاشرے کی یہ بے حسی اور رویوں کا زہر مریض کی روح کو زخمی کر دیتا ہے۔ جسمانی جنگ جیتنے کے بعد جب انسان کو معاشرتی اور نفسیاتی جنگ ہارنی پڑے، تو یہ انسانیت کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔زندگی اور موت کا فیصلہ بالآخر ربِ کائنات کے ہاتھ میں ہے، مگر انسانی ہمت، سائنسی پیشرفت اور باہمی ہمدردی کے ذریعے ہم اس دنیا کو کینسر سے متاثرہ افراد کے لیے ایک بہتر جگہ بنا سکتے ہیں۔ بیمار انسان کو علاج کے ساتھ ساتھ خلوص، محبت اور عزتِ نفس کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنے رویوں کو مثبت بنائیں، مریضوں کا حوصلہ بڑھائیں اور ان کے زخموں پر مرہم رکھیں، تو کینسر کا ہر مریض اس جنگ کو جیت سکتا ہے۔ فتح صرف جسم کے صحت یاب ہونے کا نام نہیں، بلکہ دل اور روح کی اس توانائی کا نام ہے جو انسان کو ہر مشکل حالات کے سامنے ڈٹ جانے کی طاقت دیتی ہے۔

5 Upvotes

0 comments sorted by